حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں نماز جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ آج ایران، فلسطین اور محورِ مقاومت کے خلاف فکری جنگ مسلط کی جا چکی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حساس تاریخی موڑ پر غلط تجزیہ، کمزور اتحاد اور ارادے کی سستی ملتوں کو شکست سے دوچار کر سکتی ہے، جبکہ ایمان، وحدت اور استقامت کامیابی کی ضمانت ہیں۔
قم المقدسہ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ علی رضا اعرافی نے موجودہ عالمی اور علاقائی حالات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران اور عالمِ اسلام ایک حساس مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے 22 بہمن کے عوامی اجتماع کو ملت کی بیداری اور اتحاد کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تاریخِ اسلام میں بدر، خیبر اور احزاب جیسے معرکے کامیابی کی مثال ہیں جبکہ احد اور صفین جیسے مواقع پر غفلت کے باعث نقصان بھی ہوا۔ اسی طرح ایران کی تاریخ میں بھی کامیابی اور ناکامی دونوں پہلو موجود ہیں۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ ملتوں کی شکست کے چند اہم اسباب ہوتے ہیں:
1. غلط تجزیہ اور آگاہی کی کمی:
انہوں نے کہا کہ آج ایک فکری جنگ جاری ہے جس کا مقصد نوجوان نسل کو تاریخی حقائق سے دور کرنا ہے۔
2. سماجی اتحاد کی کمزوری:
اختلاف اور انتشار قوموں کو کمزور کر دیتا ہے۔
3. ارادے کی کمزوری:
انہوں نے قرآن کریم کی آیت “وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ باہمی نزاع طاقت کو ختم کر دیتا ہے۔
4. دشمن سے خوف:
قرآن کی آیت “وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا” کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مومن کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
5. دفاعی تیاری کی کمی:
انہوں نے زور دیا کہ ہر قوم کو اپنی دفاعی طاقت مضبوط رکھنی چاہیے۔
6. قیادت سے کمزور تعلق:
انہوں نے کہا کہ قیادت کی اطاعت کامیابی کا اہم عنصر ہے۔
7. ایمان کی کمزوری:
ان کے مطابق اصل کامیابی ایمان اور خدا پر بھروسے میں ہے۔
کامیابی کی شرائط
انہوں نے کہا کہ ایمان، درست تجزیہ، اتحاد، اطاعتِ قیادت، شجاعت، استقامت اور دفاعی آمادگی کامیابی کی بنیادی شرطیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔
ماہِ رمضان کی دس خصوصیات
خطیب نماز جمعہ قم المقدسہ نے ماہِ مبارک رمضان کی دس نمایاں خصوصیات بھی بیان کیں:
1. یہ اللہ تعالیٰ سے خاص نسبت رکھنے والا مہینہ ہے۔
2. بڑے آسمانی واقعات کا اسی مہینے میں رونما ہوئے ہیں، قرآن اسی مہینے میں نازل ہوا۔
3. خصوصی عبادات خصوصاً روزے کا مہینہ ہے۔
4. اعمال کی قبولیت زیادہ ہوتی ہے۔
5. ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
6. عام اور مباح کاموں پر بھی اجر ملتا ہے۔
7. گناہوں کی بخشش کا سبب بنتا ہے۔
8. فرشتے روزہ داروں کے لیے استغفار کرتے ہیں۔
9. ہمدردی اور سماجی تعاون کا درس دیتا ہے۔
10. نئی نسل کی تربیت کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
آخر میں انہوں نے قم کو علمی اور روحانی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شہر میں رمضان کی حرمت اور اسلامی شعائر کا خاص اہتمام ہونا چاہیے اور نوجوان نسل کو اس مہینے کی روح سے آشنا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔









آپ کا تبصرہ